غزل

زہر جدائی پھانکتے رہنا ٹھیک نہیں

آجاؤ اب تاکتے  رہنا ٹھیک نہیں

محبوب عالم دلکش اعظمی

زہر جدائی پھانکتے رہنا ٹھیک نہیں
آجاؤ اب     تاکتے  رہنا  ٹھیک نہیں

میں  بھی سو جاتا ہوں تم بھی سوجاؤ
رات گئے تک جاگتے رہنا ٹھیک نہیں

جب بھی بولو سوچ کے بولو سچ بولو
الٹی سیدھی ہانکتے رہنا ٹھیک نہیں

رہبر اور رہزن میں فرق ضروری ہے
سب کے پیچھے بھاگتے رہنا ٹھیک نہیں

مجھکو سمجھنا ہے تو میرے پاس آؤ
دور سے یونہی آنکتے رہنا ٹھیک نہیں

راز محبت کھل سکتا ہے یوں دلکش
ہردم اس کو تاکتے رہنا ٹھیک نہیں

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close