غزل

زیست سے لڑ کے ابھر جائیں تو کچھ بات بنے

عمران عالم

زیست سے لڑ کے ابھر جائیں تو کچھ بات بنے

ہم رگ جاں سے گزر جائیں تو کچھ بات بنے

۔

راس آتا نہیں آنکھوں میں چمکنا تیرا

آ! تلاطم میں اتر جائیں تو کچھ بات بنے

۔

ہو تردد نہ کبھی فکر میں الجھن آئے

قول سے اپنے مکر جائیں تو کچھ بات بنے

۔

خواب رکتے نہیں آنکھوں میں سحر ہونےتک

ساتھ چلتے ہوئے مر جائیں تو کچھ بات بنے

۔

لوگ دیکھیں گے تماشا تری جراحی کا

زخم کچھ اور نکھر جائیں تو کچھ بات بنے

۔

اب جنوں ختم ہوا صحرا نوردی کا سنو!

لوٹ کے شام کو گھر جائیں تو کچھ بات بنے

۔

چاندنی چاند کی اور پھول کی خوشبو عالم

ساری دنیا میں بکھر جائیں تو کچھ بات بنے

مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close