غزل

زیست کی سختیوں نے مار دیا

ڈاکٹر ناصر امروہوی

زیست کی سختیوں نے مار دیا

ذائقہ تلخیوں نے مار دیا

راستہ کچھ کٹھن نہیں تھا مگر

پَیر کی بیڑیوں نے مار دیا

مجھ کو آسانیاں میسر ہیں

ان ہی آسانیوں نے مار دیا

میں سزاوارِ شاہ باز نہ تھا

مجھ کو مرغابیوں نے مار دیا

آپ کو سخت سست کہہ ڈالا

پھر پشیمانیوں نے مار دیا

وہ جو محفل کی جان ہوتا تھا

اس کو تنہائیوں نے مار دیا

درد سارے سلا کے رکھے تھے

ہائے! پروائیوں نے مار دیا

یاد کرنا تری نوازش تھی

پر مجھے ہچکیوں نے مار دیا

پیاسا رہ کر حسین زندہ ہے

شمر کو پانیوں نے مار دیا

میں تو دانا ہوں خیر سے ناصر!

دل کی نادانیوں نے مار دیا

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close