غزل

سانپ زیادہ، سیڑھی کم

زیست جوا ہے بازی کم

عبدالکریم شاد

سانپ زیادہ، سیڑھی کم

زیست جوا ہے بازی کم

خوشیاں تو ہیں سب کی کم

لیکن میری اتنی کم!

رکھو تعمیر اونچی کم

بربادی بھی ہوگی کم

لمبا ہجر، ادھورا وصل

پیاس زیادہ، پانی کم

مے خانے کا ہے دستور

چھلکا زیادہ اور پی کم

یادو! مجھ کو تڑپاؤ

کچھ تو ہو تنہائی کم

چہرے دیکھے لوگوں کے

نقلی زیادہ، اصلی کم

خواب کی ہر تعبیر سدا

سمجھا زیادہ نکلی کم

خطرے اتنے کم ہوں گے

جتنے ہوں گے ساتھی کم

دنیا کی تھالی میں ہے

سالن زائد، روٹی کم

اوج و آزادی ہے کیا؟

کپڑے پہنے لڑکی کم

باغ جہاں کی یہ حالت!

پھول زیادہ، مالی کم

سچ کہنے سے محفل میں

کیا ہوگی رسوائی کم؟

تھک کر ٹوٹ گئی آخر

شاخِ گل جو لچکی کم

ہائے غمِ دنیا! اب کے

یاد تمہاری آئی کم

ہم نے بھی اب تنگ آ کر

پروا کرنی کر دی کم

بات میں ناصح کی ہے اثر

چائے میں جیسے چینی کم

جب بھی کیا ہے اپنا حساب

خود میں نکلا میں ہی کم

شاد میاں! تم فکر کرو

اب کی زیادہ تب کی کم

مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close