غزل

سخن کا اس سے یارا بھی نہیں ہے

ذیشان الہی

سخن  کا اس سے   یارا  بھی نہیں ہے

سخن  کے  بِن گزارا   بھی   نہیں   ہے

۔

بیاں شعروں میں ہم  کرتے ہیں   جتنا

وہ اس درجہ تو پیارا  بھی  نہیں   ہے

۔

بہت شکوے ہیں  اس کو  زندگی  سے

مگر   مرنا     گوارا   بھی    نہیں   ہے

۔

نظر   میں  جتنی  حیرانی    ہے,   اتنا

انوکھا   تو  نظارہ    بھی   نہیں    ہے

۔

لباسِ جاں  تجھے  واپس تو دے  دوں

مگر   اک  قرض اتارا  بھی  نہیں   ہے

۔

نکل   آئے   دلِ    ویراں   کی    جانب

کوئی  قسمت  کا  مارا  بھی نہیں ہے

۔

سہارا   اس   کا    لینا   پڑ    گیا   ہے

جو   خود   اپنا سہارا  بھی نہیں  ہے

۔

جسے   ذیشان   بڑھ  کر   روکنا   تھا

اسے  میں  نے  پکارا  بھی   نہیں  ہے

مزید دکھائیں

ذیشان الہی

276۔۔۔۔ ذیشان الہٰیذیشان الہٰی 2 اگست 1990 کو ٹانڈہ امبیڈکر نگر(فیض آباد) یو.پی ، بھارت میں پیدا ہوئے۔ میٹرک 2005 میں قومی انٹر کالج ٹانڈہ فیض آباد سے کی۔ انٹرمیڈیٹ 2008 میں قومی انٹر کالج ٹانڈہ سے کی۔ بسلسۂ روز گار سعودی عرب میں مقیم ہیں۔ شاعری کا باقاعدہ آغاز 2010 میں فیس بک کے ادبی تنقیدی گروپ اردو انجمن اور انحراف پر آنے کے بعد کیا۔

متعلقہ

Back to top button
Close