غزل

سرِ آئینہ حیرانی بہت ہے

عرفان وحید

سرِ آئینہ حیرانی بہت ہے

ستم گر کو پشیمانی بہت ہے

خرد کی گرچہ ارزانی بہت ہے

جنوں کی جلوہ سامانی بہت ہے

سبھی وحشی یہیں پر آرہے ہیں

مرے گھر میں بیابانی بہت ہے

یہاں ہر چند سب خوش پیرہن ہیں

مگر دیکھو تو عریانی بہت ہے

نہ جانے کب مری مٹھی میں آئے

وہ اک لمحہ کہ ارزانی بہت ہے

عجب الجھن کہ چپ رہنا بھی مشکل

جو کہہ دوں تو پشیمانی بہت ہے

میں سمتِ دشت جانا چاہتا تھا

مگر اس میں تن آسانی بہت ہے

بھلا کر بیٹھتا ہوں ہر کسی کا

ابھی مجھ میں یہ نادانی بہت ہے

خدایا جوڑ کیا ہے عشق و دل کا؟

تری بخشش پہ حیرانی بہت ہے

زمیں کو راس کب آئے گا عرفاں

وہ حرفِ حق کہ نقصانی بہت ہے

مزید دکھائیں

عرفان وحید

عرفان وحید کا تعلق پنجاب کے شہر مالیر کوٹلہ سے ہے۔ آپ پیشے سے انجینیر ہیں۔ عرفان نے اردو اور انگریزی میں قریباً ۲۰ کتابیں ترجمہ کی ہیں۔ آپ انگریزی ماہنامے 'دی کمپینیئن' اور انگریزی پورٹل 'ہیڈلائنز انڈیا' کے ایڈیٹر بھی رہ چکے ہیں۔

متعلقہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اسے بھی ملاحظہ فرمائیں

Close
Close