غزل

سر مرا بھی ایک دن دھڑ سے اتارا جائے گا

بے گناہوں کو یوں مقتل سے گزارا جائے گا

مجاہد ہادؔی ایلولوی

سر مرا بھی ایک دن دھڑ سے اتارا جائے گا
بے گناہوں کو یوں مقتل سے گزارا جائے گا

پھر کسی مظلوم کو منصف نے ظالم لکھ دیا
پھر کسی بیوا کے سر سے اک سہارا جائے گا

یوں نئی تاریخ اپنے ملک کی ہوگی رقم
مندر و مسجد سے گلشن کو سنوارا جائے گا

پھر سے ظالم کا عدالت پر ہے رعب و دبدبہ
"آج پھر سچ بولنے والے کو مارا جائے گا”

میری تیری جنگ سے ہے حکمراں کو فائدہ
ان کا کیا نقصان ہے, سب کچھ ہمارا جائے گا

تو کسی سے کرلے نفرت ورنہ طے ہے ایک دن
امتحاں سے تُو محبت کے گزارا جائے گا

بچ کے رہنا میرے یارا گردشِ ایام سے
اس کی زد میں جو بھی آئے گا وہ مارا جائے گا

میں پریشاں ہو رہا ہوں سوچ کر اس بات کو
کس طرح ہادؔی کو محشر میں پکارا جائے گا

مزید دکھائیں

مجاہد ہادؔی ایلولوی

تخلیقِ کارِ کلامِ دل پزیر شعر و سخن کا نیا ابھرتا ستارہ جناب مجاہد ہادؔی ایلولوی صاحب کا تعلق ہندوستان کے صوبہ گجرات سے ہیں, آپ پیشے سے عالمِ دین ہیں آپ نے اپنی ابتدائی تعلیم اپنے آبائی وطن ایلول میں حاصل کی اس کے بعد مزید عربی اردو اور فارسی کی تعلیم کے حصول کے لئے اپنے علاقہ کا معروف ادارہ ( جامعہ اسلامیہ امداد العلوم وڈالی) کا رخ کیا اور وہی سے 2016 میں سند فضیلت حاصل کی اور اس کے بعد سے اب تک احمدآباد کے قریب شہر بوٹاد میں مقیم ہیں آپ کا تعلیق گجرات کے ضلع سابرکانٹھا کے ایک علمی خاندان سے ہیں آپ کے والد محترم کا اسمِ گرامی عمر ابن محمد پشوا ہیں وہ بھی پیشے سے عالمِ دین ہیں, آپ افق شعر و سخن کا ایک چمکتا ستارہ ہیں اور نئی نسل کے فعال ترین شعراء میں سے ایک ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close