غزل

سلگ سلگ کے نہ یوں ہی دھواں دھواں ہو جائیں

افتخار راغبؔ

سلگ سلگ کے نہ یوں ہی دھواں دھواں ہو جائیں

تم ایک پھونک تو مارو کہ ضو فشاں ہو جائیں

یہ جستجو کہ ملے ایک ماہتابِ وفا

یہ آرزو کہ محبت کا آسماں ہو جائیں

نہ جانے آبلے پڑ جائیں کتنے کانوں میں

تری زباں سے کبھی ہم اگر عیاِں ہو جائیں

ملے عصا کوئی ایسا کہ ضرب سے جس کی

خلوص و انس کے چشمے رواں دواں ہو جائیں

ہمیں لٹانا ہے اک دوسرے پہ جان و دل

خدا نہ کردہ کہ دو جسم ایک جاں ہو جائیں

نہ چاہ کر بھی نکلتی ہے بد دعا راغبؔ

وہ چشم دید جو چپ ہیں وہ بے زباں ہو جائیں

خیال میں بھی نہ راغبؔ ہم آئیں دنیا کے

کسی کی چشمِ تخیل کی پتلیاں ہو جائیں

مزید دکھائیں

افتخار راغب

تخلیقِ کارِ کلامِ دل پذیر، علمبردارِ توازنِ لفظ و معنی ، بدرِ آسمانِ شعر و سخنِ قطر اور افتخارِ بزمِ اردو قطر جناب افتخار راغبؔ کا تعلق ہندوستان کے صوبہ بہار سے ہے۔ پیشے سے سول انجنئیر ہیں اور 1998 میں جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی سے بی ٹیک کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد مارچ 1999 سے قطر میں ملازمت کے سلسلے میں مقیم ہیں۔ آپ کے چار شعری مجموعۂ کلام، ’لفظوں میں احساس‘ ، ’خیال چہرہ‘ ، ’غزل درخت‘ اور 'یعنی تو' منظرِ عام پر آکر مقبولیت حاصل کر چکے ہیں۔ غزلوں کا پانچواں مجموعہ اور مزاحیہ شاعری کا پہلا مجموعہ زیرِ ترتیب ہیں۔ آپ کی شاعری کی اینڈرائڈ ایپ بھی بن چکی ہے جسے Google Play Store میں Iftekhar Raghib - Urdu Poetry لکھ کر تلاش کرکے انسٹال کیا جا سکتا ہے اس میں چاروں مجموعہ غزلیات دیدہ زیب انداز میں موجود ہیں. افتخار راغبؔ کا شمار قطر کے فعال ترین ادبی شخصیات میں ہوتا ہے۔ آپ قطر کی قدیم ترین اردو تنظیم بزمِ اردو قطر کے 2010 سے جنرل سکریٹری ہیں اور دیگر ادبی تنظیموں میں بھی پیش پیش رہتے ہیں۔ آپ اپنے پختہ کلام کے حوالے سے پوری اردو دنیا میں نئی نسل کے شعراء میں منفرد شناخت رکھتے ہیں۔

2 تبصرے

  1. سلگ سلگ کے نہ یوں ہی دھواں دھواں ہو جائیں
    تم ایک پھونک تو مارو کہ ضو فشاں ہو جائیں

    واہ ،واہ . حضور، وہ پھونک تو ضو فِشاں کیا، شعله فِگن بنا دیگی .

    نہ چاہ کر بھی نکلتی ہے بد دعا راغبؔ
    وہ چشم دید جو چپ ہیں وہ بے زباں ہو جائیں

    واہ، آپ کا اندازِ بیاں آپکی کوفت کی شِدّت کو به خوبی پیش کر رہا ہے .

متعلقہ

Close