غزل

سَودا  یہ ان کے عشق کا مہنگا پڑا مجھے

تنہائیوں کے سائے میں رہنا پڑا مجھے

ڈاکٹر محمد اعظم براقؔ

(مرادآباد یوپی)

سَودا  یہ انکے عشق کا مہنگا پڑا مجھے

تنہائیوں کے سائے میں رہنا پڑا مجھے

یہ روٹھنے کا شوق بھی تیرا عجیب ہے

کتنی ہی بار تجھکو منانا پڑا مجھے

اِک باوفا کو تیرے لئے بے وفا کہا

کہنا نہ تھا جو آج وہ کہنا پڑا مجھے

آئے ہیں میری زیست میں ایسے بھی کچھ مقام

بربادیوں کے ساتھ بھی جینا پڑا مجھے

اِس واسطے کہ یادوں میں تم ہی رہو مری

یوں بھی ہوا کہ خود کو بھُلانا پڑا مجھے

اُسکی حسین آنکھیں نہ برسیں کہیں براقؔ

اپنا ہر ایک درد چھپانا پڑا مجھے

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close