سچ کبھی ہوگا تمھارا خواب کیا

افتخار راغبؔ

سچ کبھی ہوگا تمھارا خواب کیا

مان جائے گا دلِ بے تاب کیا

کیا بتاؤں کر کے میری غیبتیں

نوش فرماتے ہیں کچھ احباب کیا

زہر اِس درجہ ہَوا میں گھول کر

چاہتے ہو بارشِ تیزاب کیا

آپ بھی بے چین رہتے ہیں بہت

چبھ گیا آنکھوں میں کوئی خواب کیا

پانی اُترے تب نہ یہ دیکھے کوئی

ساتھ اپنے لے گیا سیلاب کیا

لے گئے شاخیں بھی پھل کے ساتھ لوگ

پھر سے ہوگا یہ شجر شاداب کیا

پیش آتے ہیں ادب سے آپ کب

آپ سے سیکھے کوئی آداب کیا

کوئی آکر ایک کنکر پھینک دے

چاہتا ہے اور یہ تالاب کیا

پوچھیے جوہر شناسوں سے کبھی

در حقیقت چیز ہے یہ آب کیا

لغزشوں پر ٹوک بیٹھا تھا اُنھیں

اور ناراضی کے ہیں اسباب کیا

کہہ دیا کہنا تھا جو راغبؔ مجھے

دیکھ فرماتے ہیں اب احباب کیا

⋆ افتخار راغب

افتخار راغب

تخلیقِ کارِ کلامِ دل پذیر، علمبردارِ توازنِ لفظ و معنی ، بدرِ آسمانِ شعر و سخنِ قطر اور افتخارِ بزمِ اردو قطر جناب افتخار راغبؔ کا تعلق ہندوستان کے صوبہ بہار سے ہے۔ پیشے سے سول انجنئیر ہیں اور 1998 میں جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی سے بی ٹیک کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد مارچ 1999 سے قطر میں ملازمت کے سلسلے میں مقیم ہیں۔ آپ کے چار شعری مجموعۂ کلام، ’لفظوں میں احساس‘ ، ’خیال چہرہ‘ ، ’غزل درخت‘ اور ‘یعنی تو’ منظرِ عام پر آکر مقبولیت حاصل کر چکے ہیں۔ غزلوں کا پانچواں مجموعہ اور مزاحیہ شاعری کا پہلا مجموعہ زیرِ ترتیب ہیں۔ آپ کی شاعری کی اینڈرائڈ ایپ بھی بن چکی ہے جسے Google Play Store میں Iftekhar Raghib – Urdu Poetry لکھ کر تلاش کرکے انسٹال کیا جا سکتا ہے اس میں چاروں مجموعہ غزلیات دیدہ زیب انداز میں موجود ہیں.
افتخار راغبؔ کا شمار قطر کے فعال ترین ادبی شخصیات میں ہوتا ہے۔ آپ قطر کی قدیم ترین اردو تنظیم بزمِ اردو قطر کے 2010 سے جنرل سکریٹری ہیں اور دیگر ادبی تنظیموں میں بھی پیش پیش رہتے ہیں۔ آپ اپنے پختہ کلام کے حوالے سے پوری اردو دنیا میں نئی نسل کے شعراء میں منفرد شناخت رکھتے ہیں۔

آپ اسے بھی پسند کر سکتے ہیں

صاف ستھری فضا بگاڑیں گے

صاف ستھری فضا بگاڑیں گے سب کو اہلِ ریا بگاڑیں گے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے