غزل

سکونِ دل ملا ہے عاشقی سے

اسے مت چھین لینا بے رخی سے

مجاہد ہادؔی ایلولوی

سکونِ دل ملا ہے عاشقی سے
اسے مت چھین لینا بے رخی سے

ہے سب کو پیار اپنی زندگی سے
بھلا اب کون مرتا ہے خوشی سے

چلی جائے وہ اب تو میرے در سے
ذرا کہدو یہ جاکر مفلسی سے

زمانے نے مجھے ٹھوکر لگا دی
میں جب بھی پیش آیا عاجزی سے

ہے ایسی زندگی سے موت بہتر
گزارا جائے جس کو بزدلی سے

مرے اپنوں نے ہی کی سنگ باری
میں جب بھی گزرا ہوں اس گلی سے

ہے جن کو ناز اپنی رہبری پر
انہیں کیسے بچائیں گم رہی سے

وہ کیسے ریگزاروں میں چلیں گے
کبھی اترے نہیں جو پالکی سے

یہاں حق کے لئے لڑنا پڑے گا
نہیں پائے گا کچھ بھی بزدلی سے

یوں اپنی زندگی بیکار مت کر
ذرا باہر نکل آشفتگی سے

کہاں گزری ہے ہادؔی عمر تیری
کبھی تو پوچھ اپنی زندگی سے

مزید دکھائیں

مجاہد ہادؔی ایلولوی

تخلیقِ کارِ کلامِ دل پزیر شعر و سخن کا نیا ابھرتا ستارہ جناب مجاہد ہادؔی ایلولوی صاحب کا تعلق ہندوستان کے صوبہ گجرات سے ہیں, آپ پیشے سے عالمِ دین ہیں آپ نے اپنی ابتدائی تعلیم اپنے آبائی وطن ایلول میں حاصل کی اس کے بعد مزید عربی اردو اور فارسی کی تعلیم کے حصول کے لئے اپنے علاقہ کا معروف ادارہ ( جامعہ اسلامیہ امداد العلوم وڈالی) کا رخ کیا اور وہی سے 2016 میں سند فضیلت حاصل کی اور اس کے بعد سے اب تک احمدآباد کے قریب شہر بوٹاد میں مقیم ہیں آپ کا تعلیق گجرات کے ضلع سابرکانٹھا کے ایک علمی خاندان سے ہیں آپ کے والد محترم کا اسمِ گرامی عمر ابن محمد پشوا ہیں وہ بھی پیشے سے عالمِ دین ہیں, آپ افق شعر و سخن کا ایک چمکتا ستارہ ہیں اور نئی نسل کے فعال ترین شعراء میں سے ایک ہیں

متعلقہ

Close