غزل

سیم و زر کی کوئی تنویر نہیں  چاہتی میں

کسی شہزادی سی تقدیر نہیں چاہتی  میں

نادیہ عنبر لودھی

سیم و زر کی کوئی تنویر نہیں  چاہتی میں

کسی شہزادی سی تقدیر نہیں چاہتی  میں

مکتبِ عشق سے وابستہ ہوں کافی  ہے مجھے

داد ِغالب، سندِ میر نہیں چاہتی میں

فیض یابی تری صحبت  ہی سے ملتی  ہے مجھے

کب ترے  عشق کی تاثیر نہیں  چاہتی میں

قید اب وصل کے  زنداں میں تُو کر لے مجھ کو

یہ ترے  ہجر کی زنجیر نہیں چاہتی میں

اب تو  سپنے میں وہ شخص آتا  نہیں ہے عنبر

اب کسی خواب کی تعبیر نہیں چاہتی میں

مزید دکھائیں

نادیہ عنبر لودھی

نادیہ عنبر لودھی شاعری اور نثر کی جاندار آواز ہیں۔ آپ برطانیہ کے اردو اخبارات سے شہرت حاصل کرنے والی پاکستانی لکھاری ہیں۔ جنہیں ادبی ایوارڈ 2017 سے بر طانیہ میں نوازا گیا۔ جو بچوں اور خواتین کے مسائل پہ لکھتی ہیں۔‬آپ خواتین اور بچوں کی بے بسی پہ قلم اٹھاتی ہیں۔

متعلقہ

Close