غزل

شبِ غم ایک میں ہی کیا، ہزاروں کو نہ نیند آئی

بدلتے کروٹیں، لیکن ستاروں کو نہ نیند آئی

منشی شریف احمد قریشی

( بھوج پور، مرادآباد، یوپی)

شبِ غم ایک میں ہی کیا، ہزاروں کو نہ نیند آئی

بدلتے کروٹیں، لیکن ستاروں کو نہ نیند آئی

غریب اچھے جو فرش خاک پہ آرام سے سوتے

ہوس کے بستروں پہ، تاجداروں کو نہ نیند آئی

زمانہ سوگیا آرام سے، کل کے بھروسے پر

نگاہیں سوگئیں، لیکن نظاروں کو نہ نیند آئی

بچا لائے ہیں طوفاں سے یہ ہم دامن کشتی کو

سمندر سوگیا، لیکن کناروں کو نہ نیند آئی

نہ جانے کون سا جادو ہے، منشی ترے شعروں میں

نہ جب تک سن لیے محفل میں، یاروں کو نہ نیند آئی

مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close