غزل

شرافت میں بہت دھوکا ہوا ہے

مگر جو بھی ہوا اچھا ہوا ہے

ڈاکٹر فیاض احمد علیگ

شرافت میں بہت دھوکا ہوا ہے
مگر جو بھی ہوا اچھا ہوا ہے

کسی کا اشک دامن پر ہمارے
ستاروں کی طرح بکھرا ہوا ہے

خدا اس شہر کو محفوظ رکھے
سمندر آج پھر بپھرا ہوا ہے

تھکن ہر روز بڑھتی جا رہی ہے
سفر بھی پاؤں سے لپٹا ہوا ہے

ہوا روشن جہاں میں نام جس کا
قبیلے میں وہی رسوا ہوا ہے

چمن میں چار سو میرا لہو تو
سمندر کی طرح پھیلا ہوا ہے

ذرا سی بات تھی فیاض لیکن
زمانہ آج تک روٹھا ہوا ہے

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close