غزل

شرم سے چور ہوگیا شیطاں

کارِ انساں پہ رو گیا شیطاں

کیسے الزام ڈھوگیا شیطاں

کام انساں کا نام شیطاں کا

نام بدنام ہوگیا شیطاں

آدمی آدمی کا دشمن ہے

بیج کیسے یہ بوگیا شیطاں

اپنے بھائی کے خون کا پیاسا

آج انسان ہو گیا شیطاں

آج انساں نہیں رہا جگ میں

لے کے آرام سوگیا شیطاں

وہ کرشمے دکھائے انساں نے

شرم سے چور ہوگیا شیطاں

آج ڈرنے لگا ہے انساں سے

اپنی اوقات کھو گیا شیطاں

چل سکی جب نثارؔ پر نہ کوئی

اپنے آنسو پرو گیا شیطاں

مزید دکھائیں

احمد نثار

نام سید نثار احمد، قلمی نام احمد نثار۔ جائے پیدائش شہر مدنپلی ضلع چتور آندھرا پردیش۔ درس و تدریس سے رضاکار موظف۔ اردو ادب، شاعری، تحقیق، ٹرائننگ اہم دلچسپیاں۔ انگریزی، ہندی تیلگو اور اردو زبانوں میں مہارت۔ کمیونکیشن اسکلز ایکسپرٹ۔ شعری مجموعہ روحِ کائنات، کہکشانِ عقیدت (نعتیہ مجموعہ) سکوتِ شام (زیرِ ترتیب)، تصنیف مواصلاتی مہارات برائے بی یو یم یس طلباء (Communication Skills for BUMS Students) ۔ ویکی پیڈین و ویکی میڈین۔ فی الحال رہائش پونے/ممبئی، مہاراشٹر۔

متعلقہ

Close