غزل

شناسا بھی ملتے ہیں انجان ہو کر

احمد علی برقی اعظمی

شناسا بھی ملتے ہیں انجان ہو کر

غمِ زندگی سے پریشان ہوکر

جو کرتے ہیں لوگوں کی حاجت روائی

فرشتوں سے افضل ہیں انسان ہوکر

میں گُھٹ گھٹ کے جیتا ہوں فرقت میں جن کی

وہ ہیں دشمنِ جاں مری جان ہوکر

مری شکل جیسے کوئی آئینہ ہو

مجھے دیکھتے ہیں وہ حیران ہوکر

شرف میزبانی کا وہ بخشتے ہیں

مرے خانۂ دل میں مہمان ہوکر

گذرتا ہوں ہر روز جس امتحاں سے

وہ ہے سخت دشوار آسان ہوکر

جو انسانیت کا گلا گھونٹتے ہیں

وہ حیواں سے بدتر ہیں انسان ہوکر

پس از مرگ بھی زندۂ جاوداں ہیں

جو جیتے ہیں اسلام کی شان ہوکر

وہ ہیں ننگِ اسلاف ان کی نظر میں

جو کرتے ہیں یہ بزدلی خان ہوکر

وہ خود کُش جہنم کا ایندھن ہیں برقی

جو کرتے ہیں ایسا مسلمان ہوکر

مزید دکھائیں

احمد علی برقی اعظمی

ڈاکٹر احمد علی برقیؔ اعظمی اعظم گڑھ کے ایک ادبی خانوادے سے تعلق رکھتے ہیں۔ آپ کے والد ماجد جناب رحمت الہی برقؔ دبستان داغ دہلوی سے وابستہ تھے اور ایک باکمال استاد شاعر تھے۔ برقیؔ اعظمی ان دنوں آل آنڈیا ریڈیو میں شعبہ فارسی کے عہدے سے سبکدوش ہونے کے بعد اب بھی عارضی طور سے اسی شعبے سے وابستہ ہیں۔۔ فی البدیہہ اور موضوعاتی شاعری میں آپ کو ملکہ حاصل ہے۔ آپ کی خاص دل چسپیاں جدید سائنس اور ٹکنالوجی خصوصاً اردو کی ویب سائٹس میں ہے۔ اردو و فارسی میں یکساں قدرت رکھتے ہیں۔ روحِ سخن آپ کا پہلا مجموعہ کلام ہے۔

متعلقہ

Close