غزل

شہرۂ آفاق سخنور بشیر بدر کے حالِ زار کے تناظر میں ایک فی البدیہہ غزل

ہماری بے بسی کی انتہا ہے

احمد علی برقی ؔ اعظمی

بتائیں کیسے اپنا حال کیا ہے
’’ ہماری بے بسی کی انتہا ہے‘‘

جو اپنے تھے ہیں بیگانوں سے بدتر
ہمارا حامی و ناصر خدا ہے

تلاطم خیز موجوں میں گھرے ہیں
خود اپنا دشمنِ جاں ناخدا ہے

مسلسل درپئے آزار ہے جو
مسلط سر پہ اک ایسی بَلا ہے

نہ قبل از وقت ہم کو مارڈالے
مکدر شہر کی ایسی فضا ہے

نہ سوچا تھا کبھی ایسا بھی ہوگا
اب اپنی زندگی جیسے سزا ہے

کبھی تھا رونقِ بزمِ ادب جو
وہ اپنے گھر میں ہی اب بینوا ہے

تمھارے سامنے برقیؔ ہے سب کچھ
ہماری زندگی اک آئینہ ہے

مزید دکھائیں

احمد علی برقی اعظمی

ڈاکٹر احمد علی برقیؔ اعظمی اعظم گڑھ کے ایک ادبی خانوادے سے تعلق رکھتے ہیں۔ آپ کے والد ماجد جناب رحمت الہی برقؔ دبستان داغ دہلوی سے وابستہ تھے اور ایک باکمال استاد شاعر تھے۔ برقیؔ اعظمی ان دنوں آل آنڈیا ریڈیو میں شعبہ فارسی کے عہدے سے سبکدوش ہونے کے بعد اب بھی عارضی طور سے اسی شعبے سے وابستہ ہیں۔۔ فی البدیہہ اور موضوعاتی شاعری میں آپ کو ملکہ حاصل ہے۔ آپ کی خاص دل چسپیاں جدید سائنس اور ٹکنالوجی خصوصاً اردو کی ویب سائٹس میں ہے۔ اردو و فارسی میں یکساں قدرت رکھتے ہیں۔ روحِ سخن آپ کا پہلا مجموعہ کلام ہے۔

متعلقہ

Close