غزل

طرحی غزل

بیاد و نذرِ نامور کلاسیکی شاعر مصحفی

احمد علی برقی ؔ اعظمی

یہ کیسا ہے ہرسو نظارا زمیں پر
ہر اک شخص ہے غم کا مارا زمیں پر

جو ہیں حکمراں وہ سمجھتے ہیں ایسے
نہیں جیسے کچھ بھی ہمارا زمیں پر

وہیں لوٹ جاتے جو ہوتا یہ بس میں
نہیں اب کوئی اپنا یارا زمیں پر

ہر اک سمت کنکریٹ کے اب ہیں جنگل
کرے کوئی کیسے گذارا زمیں پر

کہیں زلزلہ ہے کہیں ہے سنامی
ہیں دیوار و در پارہ پارا زمیں پر

کھٹکتے ہیں ہم یوں نگاہوں میں اس کی
نہ ہوں جیسے اس کو گوارا زمیں پر

یہ جاہ و حشم چندروزہ ہے اس کا
نہ ہے اب سکندر نہ دارا زمیں پر

وہی صحنِ گلشن ہے زد پر خزاں کی
جسے خونِ دل سے سنوارا زمیں پر

وہی ابنِ آدم کے خوں کا ہے پیاسا
جو انسان تھا عالم آرا زمیں پر

کیا جس نے تخلیق سب کچھ ہے اس کا
نہیں کچھ ہمارا تمھارا زمیں پر

ہے بے فیض تشنہ لبوں کی نظر میں
سمندر ہے جس طرح کھارا زمیں پر

جسے مال و دولت پہ تھا ناز اپنے
’’پھرے ہر طرف مارا مارا زمیں پر‘‘

نبرد آزما ہے وہ فطرت سے برقیؔ
فلک سے گیا جو اتارازمیں پر

مزید دکھائیں

احمد علی برقی اعظمی

ڈاکٹر احمد علی برقیؔ اعظمی اعظم گڑھ کے ایک ادبی خانوادے سے تعلق رکھتے ہیں۔ آپ کے والد ماجد جناب رحمت الہی برقؔ دبستان داغ دہلوی سے وابستہ تھے اور ایک باکمال استاد شاعر تھے۔ برقیؔ اعظمی ان دنوں آل آنڈیا ریڈیو میں شعبہ فارسی کے عہدے سے سبکدوش ہونے کے بعد اب بھی عارضی طور سے اسی شعبے سے وابستہ ہیں۔۔ فی البدیہہ اور موضوعاتی شاعری میں آپ کو ملکہ حاصل ہے۔ آپ کی خاص دل چسپیاں جدید سائنس اور ٹکنالوجی خصوصاً اردو کی ویب سائٹس میں ہے۔ اردو و فارسی میں یکساں قدرت رکھتے ہیں۔ روحِ سخن آپ کا پہلا مجموعہ کلام ہے۔

متعلقہ

Close