طرحی غزل

1

احمد علی برقی ؔاعظمی

ہے ضروری اک موقر زندگانی کے لئے

’’ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لئے‘‘

رکھ سکے اب بھی نہ گر اپنی صفوں میں اتحاد

رہئے پھر تیار مرگِ ناگہانی کے لئے

اب ابابیلوں کے لشکر کا کریں مت انتظار

ہے عمل کی بھی ضرورت کامرانی کے لئے

آپ کے پیشِ نظر ہے گر بقائے باہمی

سوچئے اپنی حیاتِ جاودانی کے لئے

مُہرۂ شطرنج بننے سے نہیں کچھ فایدہ

کیا کریں گے جی کے اس دنیائے فانی کے لئے

مال و دولت اور حکومت پر جنھیں ہے اپنی ناز

قطرہ قطرہ وہ ترس جائیں نہ پانی کے لئے

اُن کی غیرت اور حمیت کا یہی ہے امتحاں

موردِ الزام ہیں جو بے زبانی کے لئے

سب دھرا رہ جائے گا دنیا میں یونہی تخت و تاج

دیں نہ دعوت وہ بلائے ناگہانی کے لئے

دوسروں کی دستگیری کا بھروسہ چھوڑ کر

اپنا گھر خود ہی سبنھالیں حکمرانی کے لئے

کیجئے رب سے دعائے خیر اپنے صبح و شام

نوجوانوں کی سلامت نوجوانی کے لئے

جاگ جائیں خوابِ غفلت سے حرم کے پاسباں

ورنہ رہ جائیں گے برقیؔ بس کہانی کے لئے

تبصرے