غزل

طرزِ کہن سے ہٹ کر سوچو 

مقصود اعظم فاضلی

طرزِ کہن سے ہٹ کر سوچو
منظر کا پس منظر سوچو

۔

قتل کروگے بھائی کو اپنے
ہاتھ سے رکھ دو خنجر سوچو

۔

فکر سے مثبت پہلو نکلے
بات یہ ذہن میں رکھ کر سوچو

۔

کیسے تھے اسلاف ہمارے
پیٹ پہ باندھے پتھر سوچو

۔

پتھر دل کو موم جو کردے
اعظم ایسا منتر سوچو

مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close