غزل

ظالموں کو سبق سکھانا ہے

راہِ حق پر انہیں چلانا ہے

مجاہد ہادؔی ایلولوی

 ظالموں کو سبق سکھانا ہے
راہِ حق پر انہیں چلانا ہے

ظلم سہنا بھی ظلم ڈھانا ہے
بزدلوں کو یہ بھی بتانا ہے

پیار کا ماں ہی کارخانہ ہے
ماں سے ہی مجھ کو  دل لگانا ہے

سنگ ریزوں پہ اب تو چلنا ہے
سنگِ مر مر سے دور رہنا ہے

اک مکاں چند پیسے اور مدفن
زندگی کا یہی فسانہ ہے

پیار بھی کرتے ہیں تو مقصد سے
اتنا خود غرض یہ زمانہ ہے

خود پہ بھی ہے نہیں بھروسا اب
اس لئے خود کو آزمانا ہے

اہلِ باطل سے کہدو ہم کو اب
سر جھکانا نہیں کٹانا ہے

تم پہ بیوی کا بھی ہے حق لیکن
قرض ماں کا بھی تو چکانا ہے

مجھ کو یاری نہیں ہے شعلوں سے
شاخِ گل میرا آشیانہ ہے

باٹنا دشمنوں میں بھی ہادؔی
پیار کا دل میں جو خزانہ ہے

مزید دکھائیں

مجاہد ہادؔی ایلولوی

تخلیقِ کارِ کلامِ دل پزیر شعر و سخن کا نیا ابھرتا ستارہ جناب مجاہد ہادؔی ایلولوی صاحب کا تعلق ہندوستان کے صوبہ گجرات سے ہیں, آپ پیشے سے عالمِ دین ہیں آپ نے اپنی ابتدائی تعلیم اپنے آبائی وطن ایلول میں حاصل کی اس کے بعد مزید عربی اردو اور فارسی کی تعلیم کے حصول کے لئے اپنے علاقہ کا معروف ادارہ ( جامعہ اسلامیہ امداد العلوم وڈالی) کا رخ کیا اور وہی سے 2016 میں سند فضیلت حاصل کی اور اس کے بعد سے اب تک احمدآباد کے قریب شہر بوٹاد میں مقیم ہیں آپ کا تعلیق گجرات کے ضلع سابرکانٹھا کے ایک علمی خاندان سے ہیں آپ کے والد محترم کا اسمِ گرامی عمر ابن محمد پشوا ہیں وہ بھی پیشے سے عالمِ دین ہیں, آپ افق شعر و سخن کا ایک چمکتا ستارہ ہیں اور نئی نسل کے فعال ترین شعراء میں سے ایک ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close