غزل

ظاہر یا مبہم رہتا ہے

دل میں لیکن غم رہتا ہے

سحر محمود

 ظاہر یا مبہم رہتا ہے

دل میں لیکن غم رہتا ہے

تجھ سے ملوں تو کم رہتا ہے

جو بھی دل میں غم رہتا ہے

اس سے تعلق کم ہی رکھیے

لب پر جس کے “ہم” رہتا ہے

مجھ کو خبر ہے زیست میں سب کی

اکثر زیر و بم رہتا ہے

زخم ہوں کیسے بھر جاتے ہیں

وقت میں وہ مرہم رہتا ہے

دل جانے یا رب ہی جانے

دل کا جو عالم رہتا ہے

ہو وہ خوشی کا یا ہو غم کا

عارضی ہر موسم رہتا ہے

اب بھی تمھاری فکر میں جاناں

ایک ابنِ آدم رہتا ہے

کس سے سحر دنیا میں ہمیشہ

رشتہ کوئی پیہم رہتا ہے

مزید دکھائیں

سحر محمود

نام: فضل الرحمنقلمی نام: سحر محمودپیدائش (تاریخ و مقام): 26/08/1989 ، ابھراؤں ، کپل وستو، نیپالتعلیم: مکتب : مدرسہ مصباح العلوم، منخوریا شمالی۔ حفظ: معہد عثمان بن عفان، ذاکر نگر، دہلی۔(2006) عالمیت و فضیلت: جامعہ اسلامیہ سنابل، نئی دہلی۔(14-2013) بی- اے اردو (پرائیویٹ): جامعہ ملیہ اسلامیہ ، نئی دہلی (2018) مصروفیات: مارکیٹنگ مینیجرمعروف قلمی خدمات (مقالات و کتب): بعض رسائل و جرائد میں مضامین و مقالات شائع ہو چکے ہیں۔ شعری مجموعہ : بنام “جہان آرزو” (2016) میں منظر عام پر آچکا ہے۔پسندیدہ قلم کار: نثر نگاروں میں: ابن صفی ، مشتاق احمد یوسفی، سعادت حسن منٹو،ابو الکلام آزاد وغیرہ۔ شعرا میں : میر، غالب،علامہ اقبال،شکیل بدایونی، ساحر لدھیانوی، مجروح سلطانپوری،ناصر کاظمی، محسن نقوی، عباس تابش وغیرہپسندیدہ کتابیں: زاد المعاد ( ابن قیم) غبارِ خاطر( ابو الکلام آزاد) جب زندگی شروع ہوگی ( ابو یحی- ان کی تمام تصنیفات) ۔رہائش: تاہاچل، کٹھمنڈو ، نیپالرابطہ: 9811576091-977+ saharmahmood999@gmail.com

متعلقہ

Close