غزل

عشق میں بات کچھ اس طرح بیاں ہوتی ہے

آنکھ  سب کہتی  ہے  خاموش زباں ہوتی ہے

طاھر مبارک پوری

عشق میں بات کچھ اس طرح بیاں ہوتی ہے

آنکھ  سب کہتی  ہے  خاموش زباں ہوتی ہے

دیکھتا ہوں اسے حسرت کی نگاہوں سے سدا

جب میرے گھر کی گلی سے وہ رواں ہوتی ہے

پیار   کا   ہو   گیا   آغاز   اشارہ   کر تے

روبرو  کہنے  کی  ہر بات کہاں ہوتی  ہے

ہو گیا  ہے  یہ زلیخا  کی محبت سے عیاں

الفت حق میں  ضعیفی  بھی جواں ہوتی ہے

چاہتا ہوں میں اسے خود سے بھی زیادہ یارو

پھر بھی وہ دیکھ کے نظروں سے نہاں ہوتی ہے

ہو گئی جب سے زیارت رخ معشوقہ کی

جسم ہوتا ہے یہاں روح وہاں ہوتی ہے

نرم لہجے سے کہا مجھ پہ نہ ڈالو نظریں

ہم غریبوں کی تو غیرت میں ہی جاں ہوتی ہے

جو کیا کرتے ہیں پامال کسی گھر کا وقار

ساتھ اس شخص کے بدنام بھی ماں ہوتی ہے

چند لمحوں کی محبت میں نہ ان کو بھولو

جن کے قدموں تلے خالق کی جناں ہوتی ہے

جس میں ہو عزم وفا پیار اسی سے لینا

بے وفا شہر میں ظالم کی دکاں ہوتی ہے

کیا وہ سمجھیں گے محبت کے فسانے طاهر

ہاتھ میں جن کے فقط تیرو کماں ہوتی ہے

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close