غزل

عشق کا مہمل نہیں ہے

مقصود عالم رفعتؔ

یہ عقدہ عشق کا مہمل نہیں ہے

ہے مشکل یہ، مگر مشکل نہیں ہے

۔

تلاطم میں پھنسی ہے کشتئ زیست

نظر میں دور تک ساحل نہیں

۔

کھلونے کی طرح دل توڑتے ہو

تمہارے پاس کیا جی دل نہیں ہے

۔

کسی سے اور جا کر دل لگاؤ

مرا دل پیار کے قابل نہیں ہے

۔

یہ کیسی سلطنت ہے کیسا سلطاں

کوئی محفوظ مستقبل نہیں ہے

۔

نہیں اب یاد آتی دل کو تیری

پہ تیری یاد سے غافل نہیں ہے

۔

مرا پیغام یہ اکبر کو پہنچے

سلیم اس عہد کا بزدل نہیں ہے

۔

میاں رفعت کسے سمجھا رہے ہو

پڑھا لکھا ہے وہ جاہل نہیں ہے

مزید دکھائیں

مقصود عالم رفعتؔ

مقصود عالم رفعت کا تعلق پنڈول، مدھوبنی، بہار سے ہے۔ آپ اردو سے پوسٹ گریجویٹ ہیں اور ایک سرکاری اسکول میں مدرس ہیں۔ آپ نے شاعری کا آغاز 2014 سے کیا تھا اور پہلا شعری مجموعہ ’کربلائے زیست‘ زیر طباعت ہے۔

متعلقہ

Close