غزل

عشق ہے کہ اُلفت ہے تم سمجھ نہ پاؤ گے

افتخار راغبؔ

عشق ہے کہ اُلفت ہے تم سمجھ نہ پاؤ گے
دل کی کیسی حالت ہے تم سمجھ نہ پاؤ گے

 کیوں سمجھ کے بھی سب کچھ نا سمجھ سا رہتا ہوں
وقت کی نزاکت ہے تم سمجھ نہ پاؤ گے

 اک تمھاری طنّازی میری جان کی دشمن
دوسری محبت ہے تم سمجھ نہ پاؤ گے

دل کی خستہ حالی میں مسکرا کے ملنا بھی
کس قدر غنیمت ہے تم سمجھ نہ پاؤ گے

باتوں باتوں میں لب پر آتے ہی تمھارا نام
کیوں زباں میں لکنت ہے تم سمجھ نہ پاؤ گے

میری ذات میں تم نے ڈوب کر کہاں دیکھا
کس کی کیا علامت ہے تم سمجھ نہ پاؤ گے

کیا یقین کرتے ہو تم گمان پر یوں ہی
اُن کو کیا شکایت ہے تم سمجھ نہ پاؤ گے

زہرِ عشق رگ رگ میں کس قدر سرایت ہے
مجھ میں کتنی وحشت ہے تم سمجھ نہ پاؤ گے

تم کو کیا پتا راغبؔ اُن کی بے رخی کا نام
رنج ہے اذیّت ہے تم سمجھ نہ پاؤ گے

مزید دکھائیں

افتخار راغب

تخلیقِ کارِ کلامِ دل پذیر، علمبردارِ توازنِ لفظ و معنی ، بدرِ آسمانِ شعر و سخنِ قطر اور افتخارِ بزمِ اردو قطر جناب افتخار راغبؔ کا تعلق ہندوستان کے صوبہ بہار سے ہے۔ پیشے سے سول انجنئیر ہیں اور 1998 میں جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی سے بی ٹیک کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد مارچ 1999 سے قطر میں ملازمت کے سلسلے میں مقیم ہیں۔ آپ کے چار شعری مجموعۂ کلام، ’لفظوں میں احساس‘ ، ’خیال چہرہ‘ ، ’غزل درخت‘ اور 'یعنی تو' منظرِ عام پر آکر مقبولیت حاصل کر چکے ہیں۔ غزلوں کا پانچواں مجموعہ اور مزاحیہ شاعری کا پہلا مجموعہ زیرِ ترتیب ہیں۔ آپ کی شاعری کی اینڈرائڈ ایپ بھی بن چکی ہے جسے Google Play Store میں Iftekhar Raghib - Urdu Poetry لکھ کر تلاش کرکے انسٹال کیا جا سکتا ہے اس میں چاروں مجموعہ غزلیات دیدہ زیب انداز میں موجود ہیں. افتخار راغبؔ کا شمار قطر کے فعال ترین ادبی شخصیات میں ہوتا ہے۔ آپ قطر کی قدیم ترین اردو تنظیم بزمِ اردو قطر کے 2010 سے جنرل سکریٹری ہیں اور دیگر ادبی تنظیموں میں بھی پیش پیش رہتے ہیں۔ آپ اپنے پختہ کلام کے حوالے سے پوری اردو دنیا میں نئی نسل کے شعراء میں منفرد شناخت رکھتے ہیں۔

ایک تبصرہ

متعلقہ

Back to top button
Close