غزل

عمر بھر بھول نہ پاؤں گا میں احساں تیرا

نہال جالب

 عمر بھر بھول نہ پاؤں گا میں احساں تیرا

دو گھڑی ہی سہی یہ دل رہا مہماں تیرا

۔

وصل کو ہجر میں تبدیل کیا ہے تونے

ہم نے رخ دیکھ لیا گردشِ دوراں تیرا

۔

خشک سالی میں بھی زرخیز رہا کرتا ہے

ساری دنیا سے نرالا ہے گلستاں تیرا

۔

عشق نے صحرا نوردی جو سکھائی مجھ کو

میرے حصے میں چلا آیا بیاباں تیرا

۔

آج بھی انگلیاں کٹ جائیں پری چہروں کی

تذکرہ ہو جو کبھی یوسفِ کنعاں تیرا

۔

حرف اگر آئیں نظر تب نا پڑھائی کچھ ہو  !

میری آنکھوں میں ہے اب بس رخِ تاباں تیرا

۔

یار ! ہمدرد تو بننے کا  یہ ناٹک مت کر

مجھ کو ویسے بھی نہیں لینا ہے احساں تیرا

۔

پتھروں کے بھی جگر موم بنا دیتا ہے

دیکھنا پیار سے وہ رشکِ غزالاں تیرا

۔

تو جو نغمے نہ سناتا مجھے جالب اپنے

مجھ کو محسوس نہ ہوتا غم پنہاں تیرا

مزید دکھائیں

ایک تبصرہ

  1. بہت خوووب نہال جالب بھائی…. خوبصورت کلام کےلیےمبارکبادقبول فرمائیں!

متعلقہ

Back to top button
Close