عکس میرا چور ہونے کے سوا کچھ بھی نہیں

احمد نثارؔ

زندگی اِک خارداری رہ سوا کچھ بھی نہیں

میں گلوں کو ڈھونڈتا تھا پر ملا کچھ بھی نہیں

۔

حادثوں کے آئینے میں روز تکتا تھا مگر

عکس میرا چور ہونے کے سوا کچھ بھی نہیں

۔

دامنِ تر کہہ گیا تھا داستانِ زندگی

راز سارے فاش ہیں پھر پوچھنا کچھ بھی نہیں

۔

در بدر کی زندگی ہے آج سب کی زندگی

مانگنا ہے جس کے در سے مانگتا کچھ بھی نہیں

۔

میں اسیرِ زندگی بس چند لمحوں کے لیے

جب ہوا آزاد پنچھی، رابطہ کچھ بھی نہیں

۔

سر پٹکتا ہے یہ انساں جانے کتنے دَور سے

جسم و جاں کی کیمیاء کا ضابطہ کچھ بھی نہیں!

۔

کیا نثارؔ اب کہ تمہارے ذہن و دل کا انقلاب

کچھ ثمر بھی لے کے آیا یا ہو اکچھ بھی نہیں!

⋆ احمد نثار

احمد نثار
نام سید نثار احمد، قلمی نام احمد نثار۔ جائے پیدائش شہر مدنپلی ضلع چتور آندھرا پردیش۔ درس و تدریس سے رضاکار موظف۔ اردو ادب، شاعری، تحقیق، ٹرائننگ اہم دلچسپیاں۔ انگریزی، ہندی تیلگو اور اردو زبانوں میں مہارت۔ کمیونکیشن اسکلز ایکسپرٹ۔ شعری مجموعہ روحِ کائنات، کہکشانِ عقیدت (نعتیہ مجموعہ) سکوتِ شام (زیرِ ترتیب)، تصنیف مواصلاتی مہارات برائے بی یو یم یس طلباء (Communication Skills for BUMS Students) ۔ ویکی پیڈین و ویکی میڈین۔ فی الحال رہائش پونے/ممبئی، مہاراشٹر۔

آپ اسے بھی پسند کر سکتے ہیں

 یہ عبادت بھی کیا عبادت ہے

جو بھی دل صاحبِ صداقت ہے اْس سے ملنا بھی اِک عبادت ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے