غزل

عید آئی بھی اور گزر بھی گئی

جس کا تھا مُنتظر خبر بھی گئی

احمد علی برقیؔ اعظمی

جس کا تھا مُنتظر خبر بھی گئی
عید آئی بھی اور گذر بھی گئی

کرکے آیا نہ وعدۂ فردا
حسرتِ دید تھی جو مَر بھی گئی

وہ نظر تھی طلسمِ ہوش رُبا
حشر برپا تھا اک جدھر بھی گئی

کرکے دنیائے دل کو زیر و زَبَر
جانے کب اس میں وہ اُتَر بھی گئی

نگہہِ ناز اُس کی دل پہ مرے
کام کرنا تھا جو وہ کر بھی گئی

عالمِ رنگ و بو کا دیکھ کے رنگ
خواہشِ یارِ ہمسفر بھی گئی

دیکھ کر خود وہ ہوگیا بیمار
تھی جو اُمیدِ چارہ گر بھی گئی

کچھ نہ اُس پر ہوا اثر برقیؔ
حُرمتِ اشکِ چشمِ تَر بھی گئی

مزید دکھائیں

احمد علی برقی اعظمی

ڈاکٹر احمد علی برقیؔ اعظمی اعظم گڑھ کے ایک ادبی خانوادے سے تعلق رکھتے ہیں۔ آپ کے والد ماجد جناب رحمت الہی برقؔ دبستان داغ دہلوی سے وابستہ تھے اور ایک باکمال استاد شاعر تھے۔ برقیؔ اعظمی ان دنوں آل آنڈیا ریڈیو میں شعبہ فارسی کے عہدے سے سبکدوش ہونے کے بعد اب بھی عارضی طور سے اسی شعبے سے وابستہ ہیں۔۔ فی البدیہہ اور موضوعاتی شاعری میں آپ کو ملکہ حاصل ہے۔ آپ کی خاص دل چسپیاں جدید سائنس اور ٹکنالوجی خصوصاً اردو کی ویب سائٹس میں ہے۔ اردو و فارسی میں یکساں قدرت رکھتے ہیں۔ روحِ سخن آپ کا پہلا مجموعہ کلام ہے۔

متعلقہ

Back to top button
Close