غزل

غرض کے واسطے اس نے کیا کیا نہ کیا 

سب کچھ کیا پر ظالم نے وفا نہ کیا

حبیب بدر ندوی

غرض کے واسطے  اس نےکیاکیا نہ کیا

سب کچھ کیا پر ظالم نے وفا نہ کیا

مرغ بسمل سا مقتل میں تڑپایا مجھے
دیکھ میرا خلوص کہ میں نے جفا نہ کیا

نیت میں گر کھوٹ تھی تو اپنا نہ بناتے
اپنا کے بیگانہ بنایا تو نے اچھا نہ کیا

اخوت کی کچھ حدیں مقرر  ہیں بدر
حدوں کو پار کر دیا تو نے اچھا نہ کیا

خار اور پھول میں بہر حال فرق ضروری ہے
کانٹوں کو پھول سمجھ لیا تونے اچھا نہ کیا

مزید دکھائیں

حبیب بدر ندوی

ایم اے شعبہ عربی جواہر لال نہرو یونیورسٹی دہلی.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close