غزل

غزل – اگرچہ ذہن کے کشکول سے چھلک رہے تھے

عزیز نبیل

اگرچہ ذہن کے کشکول سے چھلک رہے تھے

خیال شعر میں ڈھلتے ہوئے جھجک رہے تھے

کوئی جواب نہ سورج میں تھا نہ چاند کے پاس

مرے سوال سرِآسماں چمک رہے تھے

نہ جانے کس کے قدم چومنے کی حسرت میں

تمام راستے دل کی طرح دھڑک رہے تھے

کسی سے ذہن جو ملتا تو گفتگو کرتے

ہجومِ شہر میں تنہا تھے ہم ، بھٹک رہے تھے

یہ اُس نے دیکھا تھا اک رقصِ ناتمام کے بعد

وفورِ شوق میں کون و مکاں تھِرک رہے تھے

کتابِ عمرِ گزشتہ کے حاشیوں میں نبیلؔ

وہ شور تھا کہ زمیں آسماں دھمک رہے تھے

مزید دکھائیں

عزیز نبیل

پردیس میں گیسوئے اردو کو سنوارنے والوں میں ایک اہم نام عہد حاضر کے نامور شاعر عزیز نبیل کا بھی ہے۔ آپ کا وطن ممبئی ہے لیکن آپ گزشتہ ایک عشرے سے قطر میں مقیم ہیں۔ آپ انجمن محبان اردو کے جنرل سیکرٹری ہیں۔ خواب سمندر آپ کا مجموعہ کلام ہے۔

متعلقہ

Close