غزل

غزل – تمام راستہ پھولوں بھرا ہے میرے لیے

راجیندر رمنچندہ بانی

تمام راستہ پھولوں بھرا ہے میرے لیے
کہیں تو کوئی دعا مانگتا ہے میرے لیے

تمام شہر ہے دشمن تو کیا ہے میرے لیے
میں جانتا ہوں ترا در کھلا ہے میرے لیے

مجھے بچھڑنے کا غم تو رہے گا ہم سفرو
مگر سفر کا تقاضا جدا ہے میرے لیے

وہ ایک عکس کہ پل بھر نظر میں ٹھہرا تھا
تما عمر کا اب سلسلہ ہے میرے لیے

عجیب درگذری کا شکار ہوں اب تک
کوئی کرم ہے نہ کوئی سزا ہے میرے لیے

گذر سکوں گا نہ اس خواب خواب بستی سے
یہاں کی مٹی بھی زنجیر پا ہے میرے لیے

اب آپ جاؤں تو جاکر اسے سمیٹوں میں
تمام سلسلہ بکھرا پڑا ہے میرے لیے

یہ حسنِ ختم سفر یہ طلسمِ خانۂ رنگ
کہ آنکھ جھپکوں تو منظر نیا ہے میرے لیے

یہ کیسے کوہ کے اندر میں دفن تھا بانی
وہ ابر بن کے برستا رہا ہے میرے لیے

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close