غزل

غزل – تم نور کی وادی تھے میں نجد کا صحرا تھا

عزیز نبیل

تم نور کی وادی تھے میں نجد کا صحرا تھا

تم حسن میں لاثانی ، میں عشق میں یکتا تھا

بہکا تو بہت بہکا، سنبھلا تو ولی ٹھہرا

اُس چاک گریباں کا، ہر رنگ نرالا تھا

جب رات کی آنکھوں سے چھلکے تھے مرے آنسو

وہ درد کا موسم تھا وہ کرب کا لمحہ تھا

اب یونہی سہی لیکن سوچو تو ذرا اک پل

جب مجھ سے تعلق تھا کیا خوب زمانہ تھا

اُن آنکھوں کا افسانہ بس اتنا سمجھ لیجے

سہما ہوا صحرا تھا، امڈا ہوا دریا تھا

یہ جبر کا سودا کیوں، یہ نازشِ بے جا کیا

جو دل میں تمھارے ہے کہہ دیتے تو اچھا تھا

مزید دکھائیں

عزیز نبیل

پردیس میں گیسوئے اردو کو سنوارنے والوں میں ایک اہم نام عہد حاضر کے نامور شاعر عزیز نبیل کا بھی ہے۔ آپ کا وطن ممبئی ہے لیکن آپ گزشتہ ایک عشرے سے قطر میں مقیم ہیں۔ آپ انجمن محبان اردو کے جنرل سیکرٹری ہیں۔ خواب سمندر آپ کا مجموعہ کلام ہے۔

متعلقہ

Back to top button
Close