غزل – تم نور کی وادی تھے میں نجد کا صحرا تھا

43

عزیز نبیل

تم نور کی وادی تھے میں نجد کا صحرا تھا

تم حسن میں لاثانی ، میں عشق میں یکتا تھا

بہکا تو بہت بہکا، سنبھلا تو ولی ٹھہرا

اُس چاک گریباں کا، ہر رنگ نرالا تھا

جب رات کی آنکھوں سے چھلکے تھے مرے آنسو

وہ درد کا موسم تھا وہ کرب کا لمحہ تھا

اب یونہی سہی لیکن سوچو تو ذرا اک پل

جب مجھ سے تعلق تھا کیا خوب زمانہ تھا

اُن آنکھوں کا افسانہ بس اتنا سمجھ لیجے

سہما ہوا صحرا تھا، امڈا ہوا دریا تھا

یہ جبر کا سودا کیوں، یہ نازشِ بے جا کیا

جو دل میں تمھارے ہے کہہ دیتے تو اچھا تھا

تبصرے