غزل

غزل – حق بیانی کی سزائیں لے جا

عتیق انظر

حق  بیانی  کی  سزائیں  لے  جا
شہر سے ساری صلیبیں لے جا

ہو چکے جشن  بہت  اشکوں کے
میری پلکوں سے براتیں لے جا

خواب تو  آبرو  ہے  آنکھوں   کی
خواب دے یا مری آنکھیں لے جا

پھول چومیں گے ترے ہونٹوں کو
میرا  لہجہ  مری   باتیں   لے  جا

عہد تیرا بھی میں نے  دیکھا  ہے
اپنے سب دعوے دلیلیں لے جا

دھوپ  میں چھاؤں کی حاجت ہوگی
ہم  فقیروں   کی  دعائیں  لے  جا

مزید دکھائیں

عتیق انظر

عتیق انظر ان دنوں قطر میں مقیم ہیں۔ آپ کو جذبات اور رومان کا شاعر کہا جاتا ہے۔ آپ انڈیا اردو سوسائٹی قطر کے بانیوں میں سے ہیں۔ پہچان آپ کا مجموعہ کلام ہے۔

متعلقہ

Close