خامشی ٹوٹے گی، آواز کا پتّھر بھی تو ہو

عزیز نبیل

Aziz

خامشی ٹوٹے گی، آواز کا پتّھر بھی تو ہو
جس قدر شور ہے اندر، کبھی باہر بھی تو ہو

مسکرانا کسے اچھّا نہیں لگتا یارب
مسکرانے کا کوئی لمحہ میسّر بھی تو ہو

بجھ چکے راستے، سنّاٹا ہوا، رات ڈھلی
لوٹ کر ہم بھی چلے جائیں مگر گھر بھی تو ہو

بزدلوں سے مَیں کوئی معرکہ جیتوں بھی تو کیا
کوئی لشکر مری ہمّت کے برابر بھی تو ہو

رات آئے گی، نئے خواب بھی اتریں گے ، مگر
نیند اور آنکھ کا رشتہ کبھی بہتر بھی تو ہو

چھوڑکر خواب کا سیّارہ کہاں جاؤں نبیلؔ
کرّہ ء شب پہ کوئی جاگتا منظر بھی تو ہو

⋆ عزیز نبیل

عزیز نبیل
پردیس میں گیسوئے اردو کو سنوارنے والوں میں ایک اہم نام عہد حاضر کے نامور شاعر عزیز نبیل کا بھی ہے۔ آپ کا وطن ممبئی ہے لیکن آپ گزشتہ ایک عشرے سے قطر میں مقیم ہیں۔ آپ انجمن محبان اردو کے جنرل سیکرٹری ہیں۔ خواب سمندر آپ کا مجموعہ کلام ہے۔

آپ اسے بھی پسند کر سکتے ہیں

غزل۔ صبج اور شام کے سب رنگ ہٹائے ہوئے ہیں

عزیز نبیل صبج اور شام کے سب رنگ ہٹائے ہوئے ہیں اپنی آواز کو تصویر …