غزل

غزل – دشت و صحرا میں سمندر میں سفر ہے میرا

عزیز نبیل

دشت و صحرا میں سمندر میں سفر ہے میرا

رنگ پھیلا ہوا تاحدِّ نظر ہے میرا

نہیں معلوم ،اُسے اِس کی خبر ہے کہ نہیں

وہ کسی اور کا چہرہ ہے، مگر ہے میرا

تو نے اِس بار تو بس مار ہی ڈالا تھا مجھے

میں ہوں زندہ تو مری جان ہنر ہے میرا

آج تک اپنی ہی تردید کیے جاتا ہوں

آج تک میرے خدوخال میں ڈر ہے میرا

باغباں ایساکہ مٹّی میں ملا بیٹھا ہوں

شاخ در شاخ درختوں پہ اثر ہے میرا

شاعری، عشق، غمِ رزق، کتابیں، گھربار

کئی سمتوں میں بیک وقت گزرہے میرا

مزید دکھائیں

عزیز نبیل

پردیس میں گیسوئے اردو کو سنوارنے والوں میں ایک اہم نام عہد حاضر کے نامور شاعر عزیز نبیل کا بھی ہے۔ آپ کا وطن ممبئی ہے لیکن آپ گزشتہ ایک عشرے سے قطر میں مقیم ہیں۔ آپ انجمن محبان اردو کے جنرل سیکرٹری ہیں۔ خواب سمندر آپ کا مجموعہ کلام ہے۔

متعلقہ

Close