غزل

غزل – دیکھتا کیا ہے بال وپر خاموش

عتیق انظر

دیکھتا کیا ہے بال وپر خاموش
حوصلہ کر اڑان بھر خاموش

یہ فلک بھی  ہے ایک راہ گذر
اس گذر گاہ سے گذر خاموش

ایک اک کر کے کٹ گئیں شاخیں
دیکھتا    رہ   گیا   شجر    خاموش

اک   وہی   ہے  زمین  کی  فریاد
وہ  بھی  ہے آسمان  پر   خاموش

غرق ہونے کی جب ہوئی خواہش
ہو   گیا    ناچتا   بھنور   خاموش

روشنی کی صدا نہ رنگ کی کی چاپ
صبح   ہم  کو   ملی   مگر   خاموش

بزم  حرص وہوس  میں  جی  نہ لگا
دشت  پر خار  سے گذر  خاموش

مزید دکھائیں

عتیق انظر

عتیق انظر ان دنوں قطر میں مقیم ہیں۔ آپ کو جذبات اور رومان کا شاعر کہا جاتا ہے۔ آپ انڈیا اردو سوسائٹی قطر کے بانیوں میں سے ہیں۔ پہچان آپ کا مجموعہ کلام ہے۔

متعلقہ

Close