غزل

غزل – رکھ لوں کبھی میں دن تو کبھی رات باند ھ کر

راجیش ریڈی

رکھ لوں کبھی میں دن تو کبھی رات باند ھ کر
خدمت میں، کاش ! وقت رہے ہاتھ باندھ کر

کتنا سکون ملتا ہے یہ ہم سے پوچھئے
اپنے سخن میں اَن کہے جذبات باندھ کر

تکتے ہو آسمان کو چھو لیتے کیوں نہیں
وہ پوچھتے ہیں مجھ سے مرے ہاتھ باندھ کر

کرنے لگا ہے وہ بھی جوابوں سے اب گریز
ہم نے بھی رکھ دیئے ہیں سوالات باندھ کر

رہنے لگی ہے شاہ کی ہم پر کڑی نظر
ہم جو سخن میں رکھتے ہیں حالات باندھ کر

بچّے سنیں سنیں نہ سنیں چاہے کوئی بات
ہم نے رکھی بزرگوں کی ہر بات باندھ کر

جس نے مرض دیا ہے اُسی نے دوا بھی دی
رکھ دی ہے موت زیست ہی کے ساتھ باندھ کر

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close