غزل – زمیں والوں کی بستی میں سکونت چاہتی ہے

166

احمد اشفاق

زمیں والوں کی بستی میں سکونت چاہتی ہے
مری فطرت ستاروں سے اجازت چاہتی ہے

عجب ٹھہرائو پیدا ہو رہا ہے روز و شب میں
مری وحشت کوئی تازہ اذیت چاہتی ہے

میں تجھکو لکھتے لکھتے تھک چکا ہوں میری دنیا
مری تحریر اب ہر پل محبت چاہتی ہے

ادھر منھ زور موجیں دندناتی پھر رہی ہیں
مگر اک نائو دریا سے بغاوت چاہتی ہے

تبصرے