غزل – زمیں کی آنکھ سے منظر کوئی اتارتے ہیں

180

عزیز نبیل

زمیں کی آنکھ سے منظر کوئی اتارتے ہیں

ہوا کا عکس چلو ریت پر ابھارتے ہیں

خود اپنے ہونے کا انکار کرچکے ہیں ہم

ہماری زندگی اب دوسرے گزارتے ہیں

تمہاری جیت کا تم کو یقین آجائے

سو ہم تمہارے لیے بار بار ہارتے ہیں

تلاش ہے ہمیں کچھ گمشدہ بہاروں کی

گزرچکے ہیں جو موسم انہیں پکارتے ہیں

چمک رہے ہیں مرے خیمۂ سخن ہر سو

حریف دیکھیے شب خون کیسے مارتے ہیں

یہ کیسی حیرتیں درپیش ہیں عزیزنبیلؔ

تبصرے