غزل

غزل – سب جل گیا جلتے ہوئے خوابوں کے اثر سے

احمد اشفاق

سب جل گیا جلتے ہوئے خوابوں کے اثر سے
اٹھتا ہے دھواں دل سے نگاہوں سے جگر سے
روٹھے ہوئے سورج کو منانے کی لگن میں
ہم لوگ سر شام نکل پڑتے ہیں گھر سے
آج اسکے جنازے میں ہے اک شہر صف آراء
کل مر گیا جو آدمی تنہائی کے ڈر سے
اس عہد خزاں میں کسی امید کی مانند
پتھر سے نکل آؤں مگر ابر تو برسے
اس شخص کا اب پھر سے کھڑا ہونا ہے مشکل
اس بار گرا ہے وہ زمانے کی نظر سے

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close