غزل – عشق جو میرا ہے، وہ پا بہ جنوں ہے، یوں ہے

47

خان حسنین عاقب

عشق جو میرا ہے ، وہ پا بہ جنوں ہے ، یوں ہے
تیری جانب سے مگر ہاں ہے، نہ ہوں ہے ، یوں ہے

کوئی دستک ہے، نہ آہٹ ، نہ ہی قدموں کی چاپ
دل کے گلیاروں میں بس ایک سکوں ہے، یوں ہے

قطرہ قطرہ جو ٹپکتا ہے مری آنکھوں سے
ہے تو بے رنگ، مگر یہ بھی خوں ہے، یوں ہے

مجھ کو تنہا نہیں رکھتا کبھی تیرا احساس
انجمن ایک مرے دِل کے دروں ہے، یوں ہے

عقل کب آئے گی عاقبؔ کو، کہ ناداں سب کو
مشورے دیتا ہے، سمجھاتا ہے، یوں ہے، یوں ہے

تبصرے