غزل

غزل – عشق جو میرا ہے، وہ پا بہ جنوں ہے، یوں ہے

خان حسنین عاقب

عشق جو میرا ہے ، وہ پا بہ جنوں ہے ، یوں ہے
تیری جانب سے مگر ہاں ہے، نہ ہوں ہے ، یوں ہے

کوئی دستک ہے، نہ آہٹ ، نہ ہی قدموں کی چاپ
دل کے گلیاروں میں بس ایک سکوں ہے، یوں ہے

قطرہ قطرہ جو ٹپکتا ہے مری آنکھوں سے
ہے تو بے رنگ، مگر یہ بھی خوں ہے، یوں ہے

مجھ کو تنہا نہیں رکھتا کبھی تیرا احساس
انجمن ایک مرے دِل کے دروں ہے، یوں ہے

عقل کب آئے گی عاقبؔ کو، کہ ناداں سب کو
مشورے دیتا ہے، سمجھاتا ہے، یوں ہے، یوں ہے

مزید دکھائیں

خان حسنین عاقب

خان حسنین عاقبؔ اردو ، ہندی اور انگریزی زبان و ادب کی معروف شخصیت ہیں۔ ان کی مطبوعہ کتابوں میں مجموعہ ء غزلیات ّرمِ آہوٗ ، ّخامہ سجدہ ریزٗ اور ّاقبالؔ بہ چشمِ دِل ٗ شامل ہیں۔ موصوف ترجمہ نگاری میں بھی اپنا مقام رکھتے ہیں۔ معاصر رسائل اور اخبارات میں ان کی شعری و نثری تحریریں شائع ہوتی رہتی ہیں۔

متعلقہ

Close