غزل

غزل – مری طلب کا شجر بارور ہوا ہی نہیں

عتیق انظر

مری طلب  کا شجر  بارور  ہوا  ہی نہیں
دعا کی  شاخ  پہ غنچہ کوئی  کھلا  ہی نہیں

بہاکے خواب مرے سارے لے گیا دریا
مگر خموش ہے اب جیسے  کچھ  ہوا  ہی نہیں

مرے خلاف شکایت میں سب سے آگے ہے
وہ  ایک شخص  جو  مجھ  سے کبھی  ملا  ہی نہیں

تمام  شہر  میں بس اک  وہی   ہے  دانشور
یہ  راز  میرے  سوا  کوئی  جانتا   ہی نہیں

ترے خلوص  کی  وہ  قدر  کر  رہا  ہے  جو
ترے  فریب تعلق   سے آشنا   ہی نہیں

ہماری روح میں اک دشت کرب ہے انظؔر
ہماری آنکھوں خوابوں کا  سلسلہ ہی نہیں

مزید دکھائیں

عتیق انظر

عتیق انظر ان دنوں قطر میں مقیم ہیں۔ آپ کو جذبات اور رومان کا شاعر کہا جاتا ہے۔ آپ انڈیا اردو سوسائٹی قطر کے بانیوں میں سے ہیں۔ پہچان آپ کا مجموعہ کلام ہے۔

متعلقہ

Close