غزل – نظر آئے خوش کُن شجر دھوپ کا

28

افتخار راغب، دوحہ، قطر

نظر آئے خوش کُن شجر دھوپ کا
شجر مانگتے ہیں ثمر دھوپ کا

نہ طے ہو گا شب میں سفر دھوپ کا
ہے رستہ بہت پُر خطر دھوپ کا

مِرے دل کو بچپن میں لُو لگ گئی
سو گھر کر گیا دل میں ڈر دھوپ کا

پئے تندرستی و آسودگی
شجر کو ہے درکار گھر دھوپ کا

سبھی پیڑ پودے لہکنے لگے
رُخِ خندہ زن دیکھ کر دھوپ کا

کرو ذکر صحرا نوردی کا بھی
تعارف کراؤ اگر دھوپ کا

نہیں آنے والے مرادوں کے دن
چلو کھٹکھٹاتے ہیں در دھوپ کا

تخیّل میں ہے ایک سورج مُکھی
عیاں ہے غزل پر اثر دھوپ کا

نکھر آیا راغبؔ درختوں کا رنگ
نہ پوچھو تعلق شجر دھوپ کا

تبصرے