غزل

غزل- پتّہ پتّہ بھرتے شجر پر ابر برستا دیکھو تم

راجیندر رمنچندہ بانی

پتّہ پتّہ بھرتے شجر پر ابر برستا دیکھو تم
منظر کی خوش تعمیری کو لمحہ لمحہ دیکھو تم

مجھ کو اِس دلچسپ سفر کی راہ نہیں کھوٹی کرنی
میں عجلت میں نہیں ہوں یارو، اپنارستہ دیکھو تم

آنکھ سے آنکھ نہ جوڑ کے دیکھو سُوئے افق اے ہمسفرو
لاکھوں رنگ نظر آئیں گے تنہا تنہا دیکھو تم

آنکھیں، چہرے، پاؤں سبھی کچھ بکھرے پڑے ہیں رستے میں
پیش روؤں پر کیا کچھ بیتی،جاکے تماشہ دیکھو تم

کیسے لوگ تھے، چاہتے کیاتھے، کیوں وہ یہاں سے چلے گئے
گُنگ گھروں سے مت کچھ پوچھو، شہر کانقشہ دیکھو تم

میرے سر ہے شراپ کسی کا، چھوڑدو میرا ساتھ یہیں
جانے اِس ویران ڈگر پر آگے کیا کیا دیکھو تم

اب تو تمہارے بھی اندر کی بول رہی ہے مایوسی
مجھ کو سمجھانے بیٹھے ہو، اپنا لہجہ دیکھو تم

پلک پلک من جوت سجا کر کوئی گگن میں بکھر گیا
اب ساری شب ڈھونڈو اس کو تارا تارا دیکھو تم

بھاری رنگوں سے ڈرتا سا رنگ جُدا اِک ہلکا سا
صاف کہیں نہ دکھائی دے گا آڑھا تِرچھا دیکھو تم

پانی سب کچھ اندر اندر دور بہا لے جاتا ہے…
کھوئی شے اِس گھاٹ نہ ڈھونڈو ساتوں دریا دیکھو تم

جیسے میرے سارے دشمن مرے مقابل ہوں اِک ساتھ
پاؤں نہیں آگے اٹھ پاتے زور ہوا کا دیکھو تم

ابھی کہاں معلوم یہ تم کو ویرانے کیا ہوتے ہیں
میں خود ایک کھنڈر ہوں جس میں وہ آنگن آ دیکھو تم

ان بن گہری ہو جائے گی یونہی سمے گذرنے پر
اُس کو منانا چاہوگے جب،بس نہ چلے گا… دیکھو تم

ایک اِسی دیوار کے پیچھے، اور کیا کیا دیواریں ہیں
اک دیوار بھی راہ نہ دے گی سر بھی ٹکرا دیکھو تم

ایک اتھاہ گھنی تاریکی کب سے تمہاری تاک میں ہے
ڈال دو ڈیرہ وہیں، جہاں پر نور ذرا سا دیکھو تم

سچ کہتے ہو، اِن راہوں پر چین سے آتے جاتے ہو
اب تھوڑا اس قید سے نکلو، کچھ ان دیکھا دیکھو تم

خالی خالی سے لمحوں کے پھول ملیں گے پوجا کو
آنے والی عمر کے آگے، دامن پھیلا دیکھو تم

ہم پہنچے ہیں بیچ بھنور کے روگ لیے دنیا بھر کے
اور کنارے پر دنیا کو لوٹ کے جاتا دیکھو تم

اک عکسِ موہوم عجب سا اس دھندلے خاک میں ہے
صاف نظر آئے گا تم کو اب جو دوبارہ دیکھو تم

اپنی خوش تقدیری جانو اب جو راہیں سہل ہوئیں
ہم بھی ادھر ہی سے گذرے تھے، حال ہمارا دیکھو تم

رات، دعا مانگی تھی بانی ہم نے سب کے کہنے پر
ہاتھ ابھی تک شل ہیں اپنے، قہر خدا کا دیکھو تم

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close