غزل

غزل – ہر اک منظر بھگونا چاہتی ہے

عزیز نبیل

ہر اک منظر بھگونا چاہتی ہے

اداسی خوب رونا چاہتی ہے

مجھے اک پل کی یکسوئی عطا ہو

غزل تخلیق ہونا چاہتی ہے

ان آنکھوں کی کہانی ہے بس اتنی

نظر آواز ہونا چاہتی ہے

تمہارے حسن کے حیرت کدے میں

مری بینائی کھونا چاہتی ہے

کسی کی یاد کی خاموش بارش

مرے سب زخم دھونا چاہتی ہے

وہی معصوم سی بچبن کی حسرت

بہلنے کو کھلونا چاہتی ہے

اداسی تھک چکی ہے روتے روتے

ذرا سی دیر سونا چاہتی ہے

مزید دکھائیں

عزیز نبیل

پردیس میں گیسوئے اردو کو سنوارنے والوں میں ایک اہم نام عہد حاضر کے نامور شاعر عزیز نبیل کا بھی ہے۔ آپ کا وطن ممبئی ہے لیکن آپ گزشتہ ایک عشرے سے قطر میں مقیم ہیں۔ آپ انجمن محبان اردو کے جنرل سیکرٹری ہیں۔ خواب سمندر آپ کا مجموعہ کلام ہے۔

متعلقہ

Close