غزل

غم کی پیچیدہ پہیلی میں الجھتی دیکھی

زندگی موت کی باہوں میں سسکتی دیکھی

عمران فاروقی

غم کی پیچیدہ پہیلی میں الجھتی دیکھی

زندگی موت کی باہوں میں سسکتی دیکھی

اپنے معصوم سے ارماں کو دبایے دل میں

پھر کوئی لاش سرِ دار لٹکتی دیکھی

کوئی اس خاب کی تعبیر بتایے مجھکو

میں نے پانی کی طرح آگ برستی دیکھی

زندگی نام کی اک بوڑھی بھیکارن میں نے

اپنے افکار کی گلیوں میں بھٹکتی دیکھی

جسکی سختی پہ تقبّر تھا مجھے اے عمران

آج وہ شاخِ  مراسم بھی لچکتی دیکھی

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close