غزل

غم کی چھت سے اساس وابستہ

دل سے ہے تیری آس وابستہ

افتخار راغبؔ

غم کی چھت سے اساس وابستہ

دل سے ہے تیری آس وابستہ

وہ ندی باندھتی ہے خود ہی بند

جس سے ہے میری پیاس وابستہ

دیکھتا ہوں میں خواب اردو میں

ہے زباں سے مٹھاس وابستہ

آگیا عشق عقل کی زد میں

تھا یقیں سے قیاس وابستہ

ہیں اگر ایک دوسرے کے لباس

ہو بدن سے لباس وابستہ

حِس سے منسوب بے حِسی راغبؔ

یا ہَوس سے حواس وابستہ

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close