غزل

لگے ہیں تم میں جو، لائے گئے کرائے پر

احمد کمال حشمی

لگے ہیں تم میں جو، لائے گئے کرائے پر
کہ ہم نے جسم پہ اپنے ہیں خود اگائے پَر
.
کسی کی چال ھے اپنی نہ ھے اڑان اپنی
سبھوں کے پاؤں ہیں مانگے ہوئے، پرائے پَر
.
ارادہ ہم نے کیا ہی نہیں ھے اڑنے کا
ترے قفس میں ہیں ہم خود کتر کے آئے پَر
.
میں تجھکو یوں تو بہت باوفا سمجھتا ہوں
پر اتفاق نہیں سب کو میری رائے پر
.
کسی کو میں نے بسا رکّھا ھے غموں کے عوض
مکانِ دل کو اٹھا رکّھا ھے کرائے پر
.
اثر نہ ہوگا تری سسکیوں کا اس پہ کماؔل
کبھی جو پگھلا نہیں میری ہائے ہائے پر
مزید دکھائیں

احمد کمال حشمی

احمد کمال حشمی مغربی بنگال کے مستند و معتبر شاعر ہیں۔ آپ کے کئی شعری مجموعے شائع ہوکر اربابِ نظر سے پذیرائی حاصل کرچکے ہیں۔ ’سفر مقدر ہے‘، ’ردعمل‘، ’آدھی غزلیں‘، ’چاند ستارے جگنو پھول‘ ان کے شعری مجموعوں کے نام ہیں۔ آپ کو مغربی بنگال اور بہار اردو اکادمیوں سمیت مختلف ادبی اداروں سے ایوارڈ سے بھی سرفراز کیا گیا ہے۔ احمد کمال حشمی ادب کی بے لوث خدمت انجام دے رہے ہیں، مختلف ادبی اداروں میں فعال کردار ادا کررہے ہیں اس کے علاوہ نئے ادیبوں اور شاعروں کو ادبی حلقوں میں متعارف کروانے اور ان کی تربیت میں پیش پیش رہتے ہیں۔ موصوف حکومت مغربی بنگال کے محکمہ اراضی میں افسر ہیں اور ان دنوں کولکاتا میں مقیم ہیں۔

متعلقہ

Close