غزل

ماتمِ گُل پہ دوستو ! کون رونے آئے گا 

عمران

ماتمِ گُل پہ دوستو ! کون رونے آئے گا

جنگلوں کی آگ سے شہر جل جائے گا

۔

رابطے ہیں منقطع ، منزلیں جدا جدا

درد کا یہ سلسلہ اور طُول پائے گا

۔

جگنو کہاں کوئی، تم بھی چلے گئے

اب یہاں سے راستہ کون بتلائے گا

شہر میں وہ جابجا سازشیں رٙچا گیا

دیکھنا تم مگر یہ خون رنگ لائے گا

۔

وقت ایک بازیگر , دوست میرے سادہ دل

جوشِ وفا میں پھر کوئی جاں سے جائے گا

۔

اب سِناں کی نوک پر، وقت کا نیا خدا

چند حق پرستوں کو پھر سے آزمائے گا

۔

درد گو مستقل، فرصتیں کسے مگر

دل آخر دل ہے ناں! خود بہل جائے گا

۔

میری لال بیاض سے، غزلیں تمہیں نئی

رات گئے، دیر تک کون گنگنائے گا

مزید دکھائیں

متعلقہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close