غزل

مجھ کو تو کچھ اور دِکھا ہے آنکھوں کے اُس پار

فوزیہ ربابؔ

مجھ کو تو کچھ اور دِکھا ہے آنکھوں کے اُس پار

تم بتلاؤ آخر کیا ہے آنکھوں کے اُس پار

سپنا کوئی بکھر چکا ہے آنکھوں کے اُس پار

دریا جیسے ٹوٹ پڑا ہے آنکھوں کے اُس پار

لکھّوں تیرا نام، پڑھوں تو سانول تیرا نام

تیرا ہی بس نام لکھا ہے آنکھوں کے اُس پار

بینائی تیرے رستوں کو تھام کے بیٹھی ہے

تیرے گھر کا دَر بھی وا ہے آنکھوں کے اُس پار

آنکھوں کے اِس پار تو جیسے دریا ٹھہر گیا

لیکن صحرا بکھر گیا ہے آنکھوں کے اُس پار

دن تعبیر مری چوکھٹ پر لا کر رکھ دے گا

رات نے تیرا خواب بُنا ہے آنکھوں کے اُس پار

رکھ دیتا ہے ہاتھ آنکھوں پر غیر کو جب بھی دیکھوں

جانے ایسا کون چھپا ہے آنکھوں کے اُس پار

اُس کو جاتا دیکھ رہی ہیں ہنس ہنس کر یہ آنکھیں

جانے کیا کچھ بیٖت رہا ہے آنکھوں کے اُس پار

اب توٗ آ کر دیکھے گا تو روتا جائے گا

ہم نے ایسا بَین کیا ہے آنکھوں کے اُس پار

بس اک خواب کی میّت ہے اور ماتم داری ہے

ہم نے جا کر دیکھ لیا ہے آنکھوں کے اُس پار

ہم نے تیری آنکھوں میں رہ کر محسوس کیا

کتنا درد چھپا رکھا ہے آنکھوں کے اُس پار

اب دنیا کے چہروں میں تجھ کو میں کیا دیکھوں

دل نے تجھ کو دیکھ لیا ہے آنکھوں کے اُس پار

لاکھ زمانہ بیچ آئے، توٗ لاکھ ہو مجھ سے دور

لیکن بالکل پاس کھڑا ہے آنکھون کے اُس پار

کیوں نہ ہر اک جانب اب شہزادے کی صورت ہو

ہم نے اُس کو نقش کیا ہے آنکھوں کے اُس پار

تجھ کو تو آباد لگا کرتی ہیں یہ آنکھیں

ویرانی کا شہر بسا ہے آنکھوں کے اُس پار

اوجھل اوجھل رہنے والا میری آنکھوں سے

مجھ سے کتنی بار ملا ہے آنکھوں کے اُس پار

آنکھوں سے تو نکل پڑا ہے پل بھر میں لیکن

آنسو کا سامان بچا ہے آنکھوں کے اُس پار

حیرانی اِس پار سے آخر کر بیٹھی ہے کوچ

وہ کتنا حیران کھڑا ہے آنکھوں کے اُس پار

تجھ کو بھی سرشار نہ کر دیں آنکھیں تو کہنا

ایک طلسمِ ہوش رُبا ہے آنکھوں کے اُس پار

پتھّر ہو کر رہ جائیں گی آنکھیں موند ربابؔ

اب بھی اس کا خواب پڑا ہے آنکھوں کے اُس پار

مزید دکھائیں

فوزیہ ربابؔ

نسوانی جذبات و احساسات کی پُر تاثیر عکاسی کرنے والی اور شاعری و نثر نگاری میں یکساں درک رکھنے والی منفرد لب و لہجہ کی شہزادیِ سخن محترمہ فوزیہ ربابؔ کا تعلق ہندوستان کے صوبہ گجرات کے دار الحکومت احمد آباد کے ایک معروف علمی و دینی گھرانے سے ہے. بچن ہی سے آپ کو شعر و ادب کے مطالعے کا شوق رہا ہے. آپ نے گجرات یونیورسی ٹی سے ایم اے اور بی ایڈ کی ڈگڑی حاصل کرنے کے بعد ماس کمیونیکیشن اینڈ جرنلجزم کی ڈگری بھی حاصل کی ہے. طالب علمی کے زمانے ہی سے شعر گوئی کی طرف راغب ہیں. شادی کے بعد 2010 سے گوا میں مقیم ہیں اور وہیں سے عالمی ادب میں اپنی منفرد اور معتبر شناخت قائم کرنے میں کامیابی حاصل کر چکی ہیں. سوشل میڈیا اور پرنٹ میڈیا کے مختلف ذرائع سے آپ کا کلام پوری اردو دنیا میں روز بروز مقبولیت حاصل کر رہا ہے. آپ متعدد ادبی تنظیموں اور رسالوں وغیرہ سے وابستہ ہیں. اتنی کم عمری ہی میں کئی ایوارڈ و اعزاز سے نوازی جا چکی ہیں نیز پاکستان میں بھی آپ کے اعزاز میں مشاعرہ منعقد ہوچکا ہے. ہندوستان کے متعدد معیاری عالمی و کل ہند مشاعروں میں با وقار و کامیاب شرکت کر چکی ہیں. آپ کی شاعری کا پہلا مجموعہ "آنکھوں کے اُس پار" اکتوبر 2017 میں عرشیہ پبلیکیشنز دہلی سے شائع ہو کر مقبولیت حاصل کر رہا ہے اور دوسرا مجموعہ زیرِ ترتیب ہے. آپ کی شاعری کی انتہائی دیدہ زیب اینڈرائڈ ایپ بھی تیار ہو چکی ہے جسے Play Store میں Foziya Rabab Poetry سے تلاش کر کے موبائیل میں انسٹال کر کے پڑھا جا سکتا ہے. آپ کی غزلیں جہاں احساسات و جذبات و دلکشی سے لبریز ہوتی ہیں وہیں آپ کی نظموں میں بلا کی روانی کے ساتھ زبان و بیان کی چاشنی اپنی الگ دل ربائی کی خوشبو لٹاتی ہے جن کو پڑھ کر قاری افکار و تخیل کی حسیں وادی میں گم سا ہو جاتا ہے.

متعلقہ

Close